اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یورو نیوز کے مطابق نماز جمعہ کے بعد مسلمانوں نے چینی سفارت خانے کے مقابلے مظاہرے میں اویغور مسلمانوں پر مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے دفاع اسلام تحریک کی دعوت پر منعقد ہوئے جسمیں چینی حکومت سے مسلمانوں پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ دہرا گیا۔
مظاہرین «ھم اویغورمسلمانوں کے ساتھ ہیں» اور «نجات دو اویغور کو» کے نعرے لگا رہے تھے جبکہ پلے کارڑز پر
«آزادی دو اویغور کو» اور «نسل کشی بند کرو»، کے نعرے درج تھے۔
قابل ذکر ہے کہ فٹبال کلب آرسنل کے اسٹار پلیر مسعود اوزیل نے چین میں اویغور مسلمانوں پر دباو کے حوالے سے چینی حکومت پر تنقید کی تھی جس کے بعد یہ مظاہرے کیے جارہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سال ۲۰۱۷ سے دس لاکھ مسلمان جبری کیمپوں میں نظر بند کیے گیے ہیں۔/
/129
31 دسمبر 2019 - 04:30
News ID: 997663
ہزاروں انڈونیشین باشندوں نے جکارتہ میں چینی سفارت خانے کے برابر اویغور مسلمانوں کے حق میں مظاہرہ کیا۔